ساتوں آسمان ، تمام زمینیں اور جنت دوزخ ... یہ سب اسکرینز ( screens) ہیں - ہر اسکرین
پر لوح محفوظ کی کوئی نہ کوئی فلم چل رہی ہے - تمام مخلوقات اس فلم کے کردار ہیں ... جس میں
سے ایک کردار آدم ہے جس کو اللّٰہ نے کمپیوٹر چلانے کی صلاحیت عطا کردی ہے -
جیسے تم کمپیوٹر چلاتے ہو مگر تمہاری بلی کمپیوٹر نہیں چلا سکتی - بیٹے تم جانتے ہو کہ کمپیوٹر میں کسی
ریکارڈ کو دیکھنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ پروگرام کس جگہ ریکارڈ کیا گیا ہے
تاکہ اس ونڈو کو کھول کر پروگرام اسکرین پر لایا جاسکے -
قرآن اللّٰہ تعالیٰ کے کمپیوٹر کی تمام ونڈوز کی نشاندہی کرتا ہے اور ان ونڈوز میں ریکارڈ کئے گئے
علوم کی تفصیل بھی بتاتا ہے -
ماں عاقب کی آنکھوں کی گہرائی میں دیکھتے ہوئے بولی ... بیٹے !انسان کا دماغ ایک ایسا کمپیوٹر ہے
جس کا تعلق براہ راست اللّٰہ کے کمپیوٹر لوح محفوظ کے ساتھ ہے - لوح محفوظ کی پروگرامنگ
انسان کے دماغ میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور انسان ان علوم کو شعوری طور پر دیکھ لیتا ہے
-بیٹے ! یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ تمہارے ذہن میں آنے والا ہر خیال اللّٰہ تعالیٰ کے ریکارڈ شدہ
علوم کی ایک کاپی ہے -
جب تم اس بات پر یقین کروگے تو اللّٰہ تعالیٰ کے ریکارڈ کئے گئے پروگرام میں اپنی طرف سے
کچھ بھی شامل نہیں کرو گے - کیونکہ انسانی عقل اللّٰہ کی عقل کے مقابلے میں صفر کے برابر ہے
- تم بڑے ہوکر یہ بات زیادہ اچھی طرح سمجھ لوگے -
عاقب بولا ... ماں ! تمہاری ہر بات بڑی آسانی سے میری سمجھ میں آرہی ہے -
اگر ہم ریکارڈ شدہ پروگرام میں تبدیلی کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس میں نقص
دکھائی دیا جب ہی تو ہم نے اس نقص کو دور کرکے اپنی جانب سے اس میں پروگرام شامل کردیا
-مگر اللّٰہ تعالیٰ کے تو کسی کام میں کوئی نقص نہیں ہے .. اس لئے ہماری کی گئی تبدیلی تو پھر غلط
ہوجائے گی -
ماں مسکرائی ، اس کے چہرے پر اطمینان کا رنگ جھلکنے لگا - وہ بولی ... عاقب میرے بچے !
اللّٰہ پاک نے تمہیں نیک عقل عطا فرمائی ہے ... اللّٰہ کا کرم و فضل ہے -
بیٹے ! اس کے کرم و فضل کے شکریئے میں اس کی عطا کردہ عقل سلیم کو ہمیشہ اسی طرح
استعمال کرتے رہنا -
ماں باپ کی محبتوں اور دعاؤں کے سائے میں عاقب پروان چڑھتا رہا - وقت کا دھارا اپنی پوری
رفتار سے بہتا چلا جارہا تھا - دو ہزارویں صدی کا ہر دن ہنگامہ خیز یوں سے لبریز تھا - اقتدار کی
ہوس ملک گیر صورت اختیار کرچکی تھی -
بڑی طاقتوں نے چھوٹی طاقتوں کو اس طرح اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا کہ ان کی آزادی سلب
ہوکر رہ گئی تھی - بڑی طاقتوں کے قبضے میں چھوٹے حکمران کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے -
طاغوتی حکومتیں عوام کو آلہ کار بنا کر جھوٹے اقتدار کی کرسی میں ذلت و رسوائی کی میخیں گاڑتی
چلی جارہی تھیں - ایسا نہیں کہ لوگوں کو علم نہ تھا یا لوگ حالات سے بے خبر تھے -
ایسا ہرگز نہیں تھا بلکہ گزشتہ صدی کی نسبت اس صدی میں بسنے والا ہر بچہ دنیا کے گلوب پر وارد
ہونے والی ہر حرکت کا علم رکھتا تھا -
سائینسی ٹیکنالوجی نے دنیا کو بے نقاب کرنے کی تو گویا قسم اٹھا رکھی تھی - رات کے اندھیرے
میں ہونے والی ہر حرکت دن کے اجالے میں ہونے لگی - پردے میں ہونے والی حرکات کی
روح اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو اندھیرا بن کر شئے کی حرکات کو اپنی حکمت کے پردے میں چھپا
کر پروان چڑھاتی ہے -
سائنسی ٹیکنالوجی نے حکمت خداوندی کی علمبردار روح کو ہوس نفس کی تلوار سے گھائل کرکے
اس کے پیرہن کو تار تار کردیا اور روح کے گھاؤ سے رسنے والے لہو کی رنگینی سے لطف اندوز
ہونے لگے -
نوع انسانی نے ... جسے زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا گیا تھا ... ساری زمین کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے
مادر گیتی کے مکھڑے سے حسین فطرت کی کھال ادھیڑ کر ... اسے لہو لہان کرڈالا ... اور اس
لہو لہان چہرے پر اپنے ظلم و ستم کی پٹیاں چپکانے لگی جو زخموں کو بھرنے کی بجائے ناسور
میں تبدیل کرتی ر ہیں -
No comments:
Post a Comment