Wednesday, April 22, 2026

قندیل -9

 



شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...

 اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں  ...

 بیٹے ! تم کو خبر بھی ہے کہ شیاطین کون ہیں  ؟  قاسم نے بیٹے کا جواب دیا  ...

 امی نے بتایا تھا کہ شیاطین ناری مخلوق ہیں اور جنات سے تعلق رکھتے ہیں ... عاقب نے کہا  ...

 آج میں تمہیں شیاطین کی تخلیق کے کچھ ایسے اسرار بتاؤں گا جو میں نے اپنے بزرگوں سے بچپن

 میں سنے تھے - 

قاسم کے سامنے عاقب اور زرینہ دونوں ہمہ تن گوش ہوکر بیٹھ گئے -

 قاسم نے کہنا شروع کیا  ...  ہر مخلوق کا خالق اللّٰہ ہے اور اللّٰہ ہر برائی سے پاک ہے -

 اس کا جلال اس کے جبروت و دبدبے کی نشانی ہے - اس کی ہوئیت اس کی موجودگی کا نشان

 ہے - اس کی موجودگی رحمت ہے -

 زمین کا  سلسلہ تکوینیات ... اللّٰہ تعالیٰ کے تخلیقی ارادے کو وجودی مراحل سے گزارنے کا نام ہے

 - خالق اللّٰہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے - ہر شئے کی تخلیق اللّٰہ ذات واحد کے ارادے سے شروع

 ہوتی ہے -

 اللّٰہ کے ارادے پر صفات کی تجلیات   و انوار اس تخلیقی خاکے میں رنگ بھرتے ہیں -

 صفات کے انوار و رنگ جب ارادے کے خاکے میں منتقل ہوجاتے  ... تو اللّٰہ کا ارادہ نفخ روح

 بن کر اس کے اندر سما جاتا ہے ...  اور اللّٰہ کے ارادے کی حرکت ... اس وجود کو حرکت میں

 لے آتی ہے - 

زمین کا تکوینی سلسلہ ...  وجود کی اس حرکت کو ...  کائنات کی حدود میں جاری و ساری رکھتا ہے -

 سورہ رحمٰن میں اللّٰہ تعالیٰ نے جنات کی   پیدائش کا تذکرہ بیان  کیا ہے -

 اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں  ... "  جن کو آ گ کے شعلے سے   پیدا کیا " -  شعلہ آ گ اور ہوا دو عناصر سے

 بنتا ہے - اس آیت میں ہوا اور آ گ کے ملنے کو لفظ " مارج "سے تعبیر کیا گیا ہے -

 تخلیقی قانون کے مطابق ہر شے دو رخوں سے مل کر بنی ہے - اس طرح آدم کے متعلق فرماتے

 ہیں کہ  ..." طین "  یعنی کیچڑ سے بنا ہے - کیچڑ مٹی اور پانی سے مل کر بنتی ہے -

 زمین کے سلسلہ تکوینی میں ہر شے کا پہلے مادہ وجود میں آتا ہے اور پھر اس مادے سے صورتیں

 بنتی ہیں - تخلیق  کے اس قانون کے تحت جنات کی تخلیق سے پہلے شعلہ مار آ گ کا ایک عالم

 وجود میں آیا اور پھر اللّٰہ تعالیٰ کے ارادے کے مطابق تکوینی پروگرام کے تحت اس عالم میں

 جنات کی تخلیق ہوئی -

 اس عالم نار میں ہوا اور شعلے کے ملنے سے جن وجود میں آیا - یہی وجہ ہے کہ جنات میں قہر  

،  کبر و غرور ہوتا ہے - آدم کی   پیدائش کے بعد جنات کو اپنے قہر   ،  کبر و غرور  کے ظاہر کرنے کا

 ایک بہانہ مل گیا اور حسد کی وجہ سے اللّٰہ اور آدم دونوں کے دشمن قرار دیئے گئے -

لیکن شیاطین کے لشکر کو قدرت رکھتے ہوئے بھی انسان روک نہیں رہا ہے بلکہ انہیں پال پوس

 کر قوی بناتا جارہا ہے -

  قاسم کی بات مکمل ہوئی تو عاقب نے سوال کیا  ... ابا ! انسان کس طرح شیاطین کو روک سکتا 

ہے  ؟

  قاسم نے کہا  ... بیٹے ! اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ  ... شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے  - مگر تم آج

 کے معاشرے میں انسان کے طرز عمل کو  دیکھ ہی رہے ہو - تقریباً  تمام آدمی شیطان کے طرز 

عمل کو اپنائے ہوئے ہیں - اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے اپنے گھر میں اپنے دشمن کو  پناہ

 دے دی ہے - 

دشمن کا کام اجاڑنا ہے بنانا نہیں ... دن بدن دشمن قوی ہوتا جارہا ہے اور انسان کمزور پڑتا جارہا

 ہے - اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا ہے - خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمین کی

 حفاظت کرے اور دشمن عناصر سے زمین کو پاک کرے - 

عاقب نے پوچھا  ... شیاطین نظر تو آتے نہیں  ... انہیں کیسے مارا جاسکتا ہے  ؟ 

 قاسم نے جواب دیا  ...  بیٹے ! انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے - جسم عقل و شعور کا محل ہے  ،

  مٹی رنگوں کا مجموعہ ہے - اس میں روشنی کے لئے چھپنے کی صلاحیت ہے جیسا کہ تم دیکھتے  ہو

  کہ دیوار سے ٹکرا کر روشنی کی  شعاع لوٹ جاتی ہے  ... دیوار کے پار نہیں نکل جاتی  ... یہی وجہ

 ہے کہ شیطان نے انسان کو اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے -

 آدمی کی عقل میں اپنی روشنیاں داخل کرتا رہتا ہے - یہاں تک کہ آدمی کی آدمیت آ گ کے

 شعلوں کی لپیٹ میں آکر یا تو جل کر فنا ہوجاتی ہے یا پھر شعلوں کو جلتا  دیکھ کر خوفزدہ ہوکر

 چوہے کی مانند اپنے بل میں جا چھپتی ہے  ... 

 بیٹا ! یاد رکھو  ... بزدل اور ڈرپوک آدمی اللّٰہ کو پسند نہیں - 





Monday, April 20, 2026

قندیل -8

 


زمانہ بد سے بدتر  ہوتا چلا گیا - زمین پر بسنے والوں کی زندگی مشکل سے مشکل ترین بنتی چلی گئی -

 ہر قسم کے علوم اپنے زوروں پر تھے - علم نجوم کا تو یہ حال تھا کہ بچے اسکول جانے سے پہلے

 اور بڑے دفتر جانے سے پہلے ٹی وی  پر اپنا ہورو اسکوپ دیکھ کر جاتے کہ آج کا دن ان کے

 لئے کیسا ہوگا -

 آئے دن لوگوں میں یہ ذکر رہتا کہ فلاں کو پتہ چلا کہ اس کے ساتھ ہوئی حادثہ ہونے والا ہے تو وہ

 گھر بیٹھ گیا اور حادثہ ٹل گیا - فلاں مہینے میں   پیدا ہونے والے ایسی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں

 اس لئے فلاں مہینے میں   پیدا ہونے والوں کے لئے ان سے دوستی کرنا درست نہیں ہے -

 اب گروپ بندیاں ہوگئیں اور پھر دشمنیاں ہونے لگیں  ... لیکن ستاروں پر اس قدر یقین تھا کہ

 ان اطلاعات کو جھٹلانے کا خیال بھی دل میں لانا پسند نہ کرتے - ہر ادارے میں علم نجوم کے

 عقیدت مند موجود تھے -

 کالج میں عاقب کے ساتھ بھی گروپ بندی کا معاملہ ہونے لگا - وہ ہزار سمجھاتا   کہ  یار ہم سب

 ایک کلاس میں ہیں  ،  ایسی باتیں نہیں ہونی چاہییں - انسان کا ارادہ چاند ستاروں کے ارادے

 سے افضل ہے - انسان اپنے ارادے سے چاند ستاروں کے مضر اثرات کو روکنے پر قدرت

 رکھتا ہے - 

کوئی قوم جب اپنے اندر کی آواز سننے سے اپنے کان بند کرلیتی ہے تو باہر کی آواز بھی اس کے

 کانوں سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہے اور الفاظ و  معنی کا دفتر خالی رہتا ہے - اس وقت زمین اسی

 صورت حال کا سامنا کر رہی تھی -

 حکیمانہ اقوال کی لہریں بند ذہنوں سے سر پھوڑ کر واپس لوٹ جاتیں - ایسے میں ماں باپ پر اولاد

 کی صحیح تربیت کی ذمہ داری اور بھی بھاری ہوجاتی ہے مگر اولاد کی محبت اور ذمہ داری کا

 احساس ہر دشواری کو آسان بنا دیتا ہے -

 عاقب کے ماں باپ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ اس نفسا نفسی و لہو لعب کے دور میں

 عاقب کو مضبوطیٔ کردار اور بالیدگیٔ روح کا سامان کہیں سے بھی میسر نہیں آسکتا  بجز اس کے

 ماں باپ کے -

 پس وہ اس بات کا پورا پورا خیال رکھتے کہ اللّٰہ کے حکم سے جس پودے کو وہ پروان چڑھا رہے

 ہیں  ... اس کی نشونما میں اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی شامل رہے مگر اب بیٹا جوان ہوتا جارہا تھا اور

 ان کے قویٰ کمزور ہوتے جارہے تھے -

 فکر کا بوجھ ناتواں کندھوں پر  بھاری ہوتا جاتا تھا - جتنی دیر عاقب گھر سے باہر رہتا زرینہ کا دل

 سایہ بن کر اس کے تعاقب میں رہتا - اس کے دل سے مسلسل یہی دعا نکلتی  ... یا اللّٰہ ! میرا

 بچہ تیری امانت ہے اس کی حفاظت تو ہی کرسکتا ہے - 

موسم خزاں کی ایک  ویران سی  رات تھی  ... ہوا  میں ہلکی سی خنکی تھی - تینوں کھانا کھا کر صحن

 میں بیٹھ گئے - قاسم کی نظر آسمان پر پڑی  ... ارے یہ کیا  ... اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ

 نے زرینہ اور عاقب کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیا - تینوں کی نظریں آسمان پر ٹک گئیں -

 ہر طرف شہاب ثاقب مصروف عمل تھے - قاسم پریشانی کے عالم میں کہنے لگا  ... زرینہ ! آج

 پہلی بار اتنے زیادہ شہاب ثاقب دکھائی دیئے - ایسا لگ رہا ہے کہ آسمان کی سرحد پر جنگ ہورہی

 ہے - 


Sunday, April 19, 2026

قندیل -7

 

گھر آکے اس نے ماں کو سارا فتنہ سنایا  ... 

 کہنے لگا  ... ماں! ایسا لگتا ہے جیسے لوگ کانا دجال کے انتظار میں ہیں  ... 

 ماں ! کیا کہیں کوئی ایسا واضح اشارہ نہیں ہے جس سے دجال کا صحیح نشان معلوم ہوجائے کہ

  ... وہ کب اور کہاں   پیدا ہوگا - خواہ مخواہ لوگ شک و شبہے میں ایک دوسرے کے دشمن

 بنتے جارہے ہیں  ...

  ماں بولی  ... بیٹے ! کسی کی بات جو فتنے کی صورت اختیار کرے اسے ہی دجال کہا گیا ہے -

 گویا دجال فتنہ باز کردار کا نام ہے جو ہر زمانے میں ہوتے ہیں  ... 

 عاقب بولا  ... ماں ! آج اسکول میں ایک لڑکے نے دجال کی بات شروع کی جو آخر میں فتنے

 کی صورت بن گئی - اس کا مطلب اس لڑکے کا کردار دجال کا ہے  ... 

 ماں بولی  ... اگر اس  فتنے میں اس لڑکے کا ہاتھ ہے  تو وہ    یقیناً دجال کردار ہے - کبھی بات

 شروع کرنے والا ایک بات شروع کرتا ہے ... اس بات پر بہت سے لوگ اپنی اپنی رائے کا

 اظہار کرتے ہیں - کوئی موافقت میں بولتا ہے  ،  کوئی مخالفت میں اور پھر ایک دوسرے

 کی مخالفت لڑائی جھگڑے کا  باعث بن جاتی ہے - 

اس لڑائی جھگڑے میں جو بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور اس بات کو فتنہ بنانے میں پوری

 پوری مدد کرتا ہے  ... ایسے تمام کرداروں کو دجال کا نام  دیا گیا ہے -

 بیٹے! دجال وہ چنگاری ہے جو پورے جنگل میں آگ لگا دیتی ہے - جنگل کی آگ کا الزام

 چنگاری پر ہی تو آئے گا  ...

 عاقب بولا  ... مگر ماں ! لوگوں میں تو یہ بات مشہور ہے کہ دجال کانا ہوگا - اس کی ایک آنکھ

 خراب ہوگی  ... 

 ماں بولی ... بیٹے ! اس قول میں بھی حکمت چھپی ہوئی ہے -  تم ہی بتاؤ دو آنکھوں سے دیکھنے

 والا زیادہ اچھا دیکھ سکتا ہے یا ایک آنکھ سے دیکھنے والا  ...

 عاقب بولا  ... دو آنکھوں سے دیکھنے والا  ،  ایک آنکھ والے کی نسبت زیادہ صحیح دیکھ سکتا ہے  ... 

ماں بولی  ... بیٹے ! کوئی بات فتنہ اسی وقت بنتی ہے جب لوگ اس کی گہرائی میں کام کرنے والی

 حکمت سے بے خبر ہوتے ہیں -

 بات کی حکمت کو پہچاننے کے  لئے بھرپور توجہ اور گہری نگاہ کی ضرورت ہے  - اللّٰہ پاک نے

 انسان کو دو آنکھیں دی ہیں - ایک آنکھ کا خراب ہونا معذوری اور جسمانی نقص ہے -

 وہ شخص جو عقل کا کمتر ہو اور روحانی فکر سے آشنا نہ ہو  ... ایسے شخص کو معذور اور کانا ہی

 کہا جاسکتا ہے -

 ایسے معذور اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کو کیسے جان سکتے ہیں - دنیاوی نفس کمزور ہے  ،  تمام معذوری

 اسی نفس کا خاصہ ہے - دنیاوی تمام حواس ناقص اور کمزور ہیں - دجال وہ کردار ہے جو عقل

 سلیم سے معذور ہو اور ناقص اور کمتر عقل کا مالک ہو   ....

 عاقب بولا ... مگر ماں ! جب دجال فتنہ باز کردار کا نام ہے اور ایسے کردار ہر زمانے میں دنیا میں

 موجود رہتے ہیں تو پھر دجال کو قیامت کی نشانی کیوں کہا جاتا ہے  ... 

 ماں بولی  ... بیٹے ! جب فتنہ اجتماعی صورت اختیار کرلے اور دنیا والوں کی اکثریت فتنے باز کے

  ساتھ ہوجائے  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عقل سلیم کا فقدان ہے اور سب کی

 طرز فکر دجال ہی کی طرز فکر ہے  ... 

 بیٹا ! اب تم ہی خود ذرا غور کرو  ... ایک تخریبی ذہن اور فتنہ باز شخص ایک گھر تباہ کردیتا ہے

 اور کبھی کبھی تو سارے خاندان میں پھوٹ اور فساد ڈلوا دیتا ہے - تو جب دنیا میں بسنے والوں

 کی اکثریت فسادی ہوگی تب دنیا کا کیا حال ہوگا -

 قیامت وہ ساعت ہے جو سینکڑوں اور ہزاروں سال کی تعمیر کو فنا کے ایک لمحے میں سمیٹ لیتی

 ہے -

 بیٹے ! یاد رکھو کہ انسان زمین پر اللّٰہ کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے - اللّٰہ کی ہر صفت تخلیقی اور تعمیری

 ہے - دنیا اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق ہے - اللّٰہ کا خلیفہ انسان جب تک اللّٰہ تعالیٰ کے تخلیقی ذہن سے

 کام لیتا رہتا ہے  ... دنیا اپنے بسنے والوں کے لئے امن و چین کا گہوارہ بن جاتی ہے اور ہر شئے

 سے اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں -

 مگر جب انسان اپنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے دشمن شیطان سے دوستی کرلیتا ہے تو اس کا ہر کام

 شیطانی طرز فکر پر ہوتا ہے - شیطانی طرز فکر تباہی  ،  بربادی  اور غارتگری ہے -

 جب سارے ہی انسان تخریبی ذہن استعمال کریں گے تو ساری دنیا تباہی کے گڑھے میں

 جا پڑے گی  ... 

 عاقب بڑے وثوق و عزم کے ساتھ بولا  ... ماں ! میں دنیا کو تباہی کے گڑھے میں نہیں جانے

 دوں گا انشاء اللّٰہ تعالیٰ -

 ماں کے چہرے سے طمانیت جھلکنے لگی - اس کے لبوں پر بیٹے کے لئے دعا ئیہ کلمات جاری

 ہوگئے -  





Saturday, April 18, 2026

قندیل - 6



 عاقب کا سارا بچپن زمانے کی چیرہ دستیوں کی داستانیں سنتا گزر گیا - ہر داستان زمین کے چہرے

 پر گڑنے والی پھانس بن کر اس کے ننھے  سے دل میں جا چبھتی اور اس کی کسک اس کی روح کی

 گہرائیوں میں پہنچ جاتی - اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دھرتی ماں کے کرب کی لہریں اس کے دل

 سے گزر رہی ہیں  -

 نو دس سال کی عمر میں وہ اس کرب و اضطراب کو محسوس تو کرتا تھا مگر اس کو روکنا فی الحال 

اس کے بس کی بات نہ تھی  - اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ آخر زمین پر بسنے والے

 لوگ زمین کی دگر گوں حالت سے کس طرح اپنی آنکھیں بند کرسکتے ہیں -

 ان دنوں اسکول میں بھی اس کا دل نہ لگتا - ہر بچہ اپنے آپ کو فلمی ہیرو ثابت کرنے کی کوشش

 میں لگا رہتا - بے حیائیاں  ،  بد زبانیاں اور کمزور اور چھوٹوں پر اپنا رعب آزمانا تو اس قدر عام 

ہوچکا تھا کہ اب استادوں کی توجہ بھی اس کو روکنے کی طرف سے ہٹ چکی تھی -

 اسے یوں محسوس ہوتا جیسے سارے اسکول میں وہ تنہا ہے  ،  اس کا کوئی دوست نہیں ہے -

 وہ اسکول سے آتے ہی اپنی ماں کے پاس بیٹھ جاتا اور اس وقت تک باتیں کرتا رہتا جب تک کہ

 ماحول کا پریشر اس کے ذہن سے نہ ہٹ جاتا -

 ماں ہی اس کی اکلوتی دوست تھی جو اس کے سنگ مرمر کے جسم پر پڑنے والی دھول کو روز

 کے روز صاف کردیا کرتی تھی - ان دنوں وہ اکثر خواب اور تصور میں دیکھتا کہ وہ ایک سفید

 صاف شفاف لباس پہنے ہوئے ہے - اتنے میں بہت سے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پچکاریاں لئے

 اس کی طرف نشانہ بنائے ہوئے ہیں -

 ان پچکاریوں میں گندے گندے رنگ اور تیزاب بھرا ہوا ہے - جوں ہی وہ پچکاریاں عاقب کی 

طرف مارتے ہیں  ... اس کی ماں اسے نہایت ہی تیزی سے ان کی زد سے الگ کھینچ لیتی ہے  -

 وہ سمجھتا تھا کہ قدرت اس کی حفاظت کر رہی ہے - 

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا زمین اپنے بسنے والوں کے لئے تنگ ہوتی جارہی تھی -

 اسلحہ کا استعمال عام تھا ... جس کے خوف سے ہر کوئی دوسرے کی زیادتی کو برداشت کرنے پر 

مجبور تھا - انہی دنوں دجال کی پیشن گوئیاں بھی سننے میں آ  ئیں - جلد ہی یہ موضوع بھی عام لوگوں

 کی گفتگو کا مرکز بن گیا -

 عاقب ان دنوں اسکول کے آخری سال میں تھا - ایک دن اسکول میں لڑکوں نے دجال کا ذکر

 چھیڑ دیا  ... بات سے بات چل نکلی - کوئی کہتا وہ زبردست جادوگر ہوگا  ،  سب لوگوں کو اپنے

 سحر کے زور پر قابو میں رکھے گا  -

 ایک کہنے لگا  ... سنا ہے کہ عورتیں اس کی پوجا کی حد تک گرویدہ ہوں گی -

 یہ سن کر دوسرا بڑے رازدارانہ انداز میں کہنے لگا  ... جب ہی تو وہ مردوں کو چن چن کر مارے گا -

 ایک کہنے لگا  ... سنا ہے وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا -

 ایک لڑکے نے کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور سے کہا  ... اس

 کی طرح  ،  اس لڑکے کی ایک آنکھ کچھ سوجی ہوئی تھی - شاید کچھ چوٹ لگ گئی تھی - سوجن کی

 وجہ سے آنکھ بند سی لگتی تھی -

پھر کیا تھا سب نے اسے ہدف بنالیا - ارے کہیں یہی تو کانا دجال نہیں ہے - سارے لڑکوں 

نے اس کا ناک میں دم کردیا - عاقب نے پاس بیٹھے ہوؤں کو روکنے کی کوشش بھی کی مگر مذاق

 میں بات فتنہ بن گئی - سارا کمرہ میدان کارزار بن گیا -

 ایک طوفان بدتمیزی تھا  ... ہوا میں کھانے کی پلیٹیں چل رہی تھیں  ،  جس کو لگتی وہ بھی آگے

 کسی کو کھینچ مارتا - قبل اس کے کہ معاملہ زیادہ سنگین ہوجائے عاقب کمرے سے نکل بھاگا -

 باہر نکلتے ہی اسے اندر گولی چلنے کی آواز سنائی دی -


 

Friday, April 17, 2026

قندیل - 5



 ساتوں آسمان  ،  تمام زمینیں اور جنت دوزخ  ... یہ سب اسکرینز   ( screens)  ہیں - ہر اسکرین

 پر  لوح محفوظ کی کوئی نہ کوئی فلم چل رہی ہے - تمام مخلوقات اس فلم کے کردار ہیں  ... جس میں

 سے ایک کردار آدم ہے جس کو اللّٰہ نے کمپیوٹر چلانے کی صلاحیت عطا کردی ہے  -

 جیسے تم کمپیوٹر  چلاتے ہو مگر تمہاری بلی کمپیوٹر نہیں چلا سکتی -  بیٹے تم جانتے ہو کہ کمپیوٹر میں کسی

 ریکارڈ کو دیکھنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ پروگرام کس جگہ ریکارڈ کیا گیا ہے

 تاکہ اس ونڈو کو کھول کر پروگرام اسکرین پر لایا جاسکے -

قرآن اللّٰہ تعالیٰ کے  کمپیوٹر  کی تمام ونڈوز کی نشاندہی کرتا ہے اور ان ونڈوز میں ریکارڈ کئے گئے

 علوم کی تفصیل بھی بتاتا ہے - 

ماں عاقب کی آنکھوں کی گہرائی میں دیکھتے ہوئے بولی  ... بیٹے !انسان کا دماغ ایک ایسا کمپیوٹر ہے

 جس کا تعلق براہ راست اللّٰہ کے کمپیوٹر لوح محفوظ کے ساتھ ہے - لوح محفوظ کی پروگرامنگ

 انسان کے دماغ میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور انسان ان علوم کو شعوری طور پر دیکھ لیتا ہے

  -بیٹے ! یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ تمہارے ذہن میں آنے والا ہر خیال اللّٰہ تعالیٰ کے ریکارڈ شدہ

 علوم کی ایک کاپی ہے -

 جب تم اس بات پر یقین کروگے تو اللّٰہ تعالیٰ کے ریکارڈ کئے گئے پروگرام میں اپنی طرف سے

 کچھ بھی شامل نہیں کرو گے - کیونکہ انسانی عقل اللّٰہ کی عقل کے مقابلے میں صفر کے برابر ہے

 - تم بڑے  ہوکر یہ بات زیادہ اچھی طرح سمجھ لوگے -

 عاقب بولا  ... ماں ! تمہاری ہر بات بڑی آسانی سے میری سمجھ میں آرہی ہے -

 اگر ہم ریکارڈ شدہ پروگرام میں تبدیلی کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس میں نقص

 دکھائی دیا جب ہی تو ہم نے اس نقص کو دور کرکے اپنی جانب سے اس میں پروگرام شامل کردیا

 -مگر اللّٰہ تعالیٰ کے تو کسی کام میں کوئی نقص نہیں ہے  .. اس لئے ہماری کی گئی تبدیلی تو پھر غلط

 ہوجائے گی -

ماں مسکرائی  ،  اس کے چہرے پر اطمینان کا رنگ جھلکنے لگا  - وہ بولی  ... عاقب میرے بچے !

اللّٰہ پاک نے تمہیں نیک عقل عطا فرمائی  ہے  ... اللّٰہ کا کرم و فضل ہے -

 بیٹے ! اس کے کرم و فضل کے شکریئے میں اس کی عطا کردہ عقل سلیم کو ہمیشہ اسی طرح

 استعمال کرتے رہنا -

ماں باپ کی محبتوں اور دعاؤں کے سائے میں عاقب پروان چڑھتا رہا - وقت کا دھارا اپنی پوری

 رفتار سے بہتا چلا جارہا تھا - دو ہزارویں صدی کا ہر دن ہنگامہ خیز یوں سے لبریز تھا - اقتدار کی

 ہوس ملک گیر صورت اختیار کرچکی تھی -

 بڑی طاقتوں نے چھوٹی طاقتوں کو اس طرح اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا کہ ان کی آزادی سلب

 ہوکر رہ گئی تھی - بڑی طاقتوں کے قبضے میں چھوٹے حکمران کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے -

 طاغوتی حکومتیں عوام کو آلہ کار بنا کر جھوٹے اقتدار کی کرسی میں ذلت و رسوائی کی میخیں گاڑتی

 چلی جارہی تھیں - ایسا نہیں کہ لوگوں کو علم نہ تھا یا لوگ حالات سے بے خبر تھے -

 ایسا ہرگز نہیں تھا بلکہ گزشتہ صدی کی نسبت اس صدی میں بسنے والا ہر بچہ دنیا کے گلوب پر وارد 

ہونے والی ہر حرکت کا علم رکھتا تھا -

 سائینسی ٹیکنالوجی نے دنیا کو بے نقاب کرنے کی تو گویا قسم اٹھا رکھی تھی - رات کے اندھیرے

 میں ہونے والی ہر حرکت دن کے  اجالے میں ہونے لگی - پردے میں ہونے والی حرکات کی

 روح اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو اندھیرا بن کر شئے کی حرکات کو  اپنی حکمت کے پردے میں چھپا

 کر پروان چڑھاتی ہے -

 سائنسی ٹیکنالوجی نے حکمت خداوندی کی علمبردار روح کو ہوس نفس کی تلوار سے گھائل کرکے

 اس کے   پیرہن کو تار تار کردیا اور روح کے گھاؤ سے رسنے والے لہو کی رنگینی سے لطف اندوز

 ہونے لگے -

نوع انسانی نے  ...  جسے زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا گیا تھا  ... ساری زمین کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے

 مادر گیتی کے مکھڑے سے حسین فطرت کی کھال ادھیڑ کر ... اسے لہو لہان کرڈالا  ... اور اس

 لہو لہان چہرے پر اپنے ظلم و ستم کی پٹیاں چپکانے لگی جو زخموں کو بھرنے کی بجائے ناسور

 میں تبدیل کرتی ر ہیں  - 





Thursday, April 16, 2026

قندیل -4


قاسم نے خشیت الہی سے لرزتی ہوئی بیوی کو گلے سے لگا لیا اور امید و یقین بھری آواز میں

 بولے ...  زرینہ ! اللّٰہ بہت بڑا ہے  ،  اتنا بڑا کہ ہمارے ذہن ہماری فکر اس کی عظمتوں کو چھو

 بھی نہیں سکتے - اس کی عظمت ، اس کی بڑائی  ،  اس کی سبحانیت ہی اس کی رحمت ہے -

 وہ اپنے بندوں پر حد درجے مہربان ہے -

 اس کی عظمت ،  اس کی سبحانیت اور اس کی قدرت کا تصور ہی ہمارے دلوں میں اس کا

 رعب و دبدبہ  پیدا کرتا ہے اور یہی خشیت الہی ہے جو ہمارے دلوں کو اپنے رب کے آگے

 جھکا دیتی ہے -

تم تو جانتی ہو کہ جب اللّٰہ کسی کو کسی کام کے لئے چن لیتا ہے تو اس کام کے لئے اس کے اندر

 صلاحیت بھی   پیدا کردیتا ہے - سارا کام اسی کا ہے ہمارا کام اس کے ارادے کے ساتھ

 تعاون کرنا ہے - اس کے لئے توفیق بھی اللّٰہ ہی کی عطا کردہ ہے -

 اللّٰہ  ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے - آمین -

 دونوں صوفے پر بیٹھ گئے - زرینہ بولی ...  میں چائے بنا کر لاتی ہوں -

 وہ جلد ہی قاسم کے پاس آگئی  کہنے لگی  ... تم بتاؤ کیا تم یہی اطلاع دینے یہاں آج جلد آگئے تھے

 - قاسم بولا  ... اصل بات تو یہ ہے کہ زرینہ  ! وہاں دفتر میں ،  میں نے سب ہی لوگوں کو اس خبر 

پر  گفتگو کرتے سنا - کچھ لوگ تو کہتے تھے کہ اچھا ہے دنیا میں امن ہوجائے گا مگر کافی سارے

 لوگ ہنس ہنس کر یہ کہہ رہے تھے ،  ارے دنیا میں امن چین ہوگیا تو دنیا تو بور ہوجائے گی -

 ایسی بور جگہ میں ہم تو رہنا نہیں چاہیں گے - ہم تو اپنی دنیا کی حالت بدلنے نہیں دیں گے -  

یہی تو اس کا  charm  ہے -

زرینہ   لوگوں کی باتیں سن کر میری تو جان کرب سے تلملا گئی - مجھ سے وہاں بیٹھا ہی نہ گیا 

- نہ جانے لوگوں کے ذہن کیسے ہوگئے ہیں کہ انہیں اچھے برے کی تمیز ہی نہیں رہی ہے - اپنے

 جسموں پر صابن کی بجائے کیچڑ ملتے جارہے ہیں - انہیں یہ بھی پروا نہیں ہے کہ کیچڑ ان

 کے جسموں کو صاف کرنے کی بجائے گندگی میں اور زیادہ لتھیڑ  رہا ہے -

 جانے کیا زمانہ آتا جارہا ہے - 

سائنسی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر خبر ہوا کے دوش پر اڑتی ہوئی گلوب کے اس کونے سے

 اس کونے میں آن کی آن میں پہنچ جاتی - ان دنوں دنیا کی سب سے زیادہ گرما گرم خبر   ہادئ

 زماں کی   پیدائش کی تھی -

 علم نجوم اور علم جفر کے ماہرین سر جوڑ کر ریسرچ میں لگ گئے بلکہ وہ اس بات سے تعجب میں

 تھے کہ انہیں پہلے ہی کیوں نہ اس بات کا علم ہوگیا - جیسے جیسے وہ کوئی نئی چیز دریافت کرتے

 جاتے میڈیا کے ذریعے ساری دنیا میں پھیلاتے جاتے -

 یہ بات دریافت ہوچکی تھی کہ مخصوص ساعت میں     پیدا ہونے والا بچہ بہت سے خوبیوں کا

 مالک  ہوتا ہے - سائنسدان انسانی جین میں کام کرنے والی روشنیوں سے واقف ہوچکے تھے -

 ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ روشنیوں کی ان مخصوص مقداروں کو مرد کے اندر پلانٹ کردیں گے اور

 عورت کی بجائے بچے مرد کے بطن سے   پیدا ہوں گے -

 سات سالہ عاقب نے جب یہ بات سنی تو اماں سے بولا  ...  ماں یہ تو کوئی ایسی حیرت انگیز بات

 نہیں ہے - اللّٰہ تعالیٰ نے بھی تو آدم سے حوا کو نکالا تھا -

 ماں بولی  ...  بیٹا!  اللّٰہ کا علم انسان کے تمام علوم کا احاطہ کرتا ہے -

 اللّٰہ کا علم کمپیوٹر کی پروگرامنگ ہے - انسان کا علم  پروگرام شدہ علوم کو اسکرین پر دیکھنا ہے -

 اسکرین پر کوئی فلم اس وقت تک دیکھی ہی نہیں جاسکتی جب تک کہ پہلے سے پروگرامنگ نہ

 کی گئی ہو -

 بیٹا! اللّٰہ کا کمپیوٹر لوح محفوظ ہے - اس کی پروگرامنگ کی مکمل دستاویز قرآن ہے - 





Tuesday, April 14, 2026

قندیل - 3


ایک دن اسکول سے آنے کے بعد عاقب نے ماں سے پوچھا  ... ماں آج نوید کہہ رہا تھا کہ اس 

کے والد ہر روز یہ دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ میاں کسی مہدی کو بھیج دے -

 ماں مہدی کون ہے  ؟

  ماں بولی  ... بیٹے مہدی کسی کا ذاتی نام نہیں ہے بلکہ روحانی رہنما کو مہدی کہا گیا ہے - مہدی کا

 مطلب ہے ہدایت دینے والا جو لوگوں کو نیک ہدایت دے جیسے پیغمبروں نے اللّٰہ کا   پیغام لوگوں

 تک پہنچایا -    پیغمبروں کا مشن مخلوق میں خالق کا تعارف کرانا ہے تاکہ مخلوق خالق کو پہچان کر

 اس کے احکامات کی تعمیل میں دل و جان سے مصروف ہوجائے -

بیٹے مہدی وہ کردار ہے جو پیغمبروں کے مشن میں پیغمبرانہ طرز فکر پر کام کرتا ہے -

 عاقب بولا  ... ماں پیغمبرانہ طرز فکر کیا ہے  ؟ 

  ماں بولی  ... اپنے ذاتی ارادے کے بجائے ہر کام کو اللّہ کا حکم سمجھ کر کرنا پیغمبرانہ طرز فکر ہے -

 مخلوق کا ذاتی ارادہ اللّٰہ کے ارادے سے فیڈ ہورہا ہے - اللّٰہ بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اس

 بات سے واقف ہوجائیں کہ ان کی زندگی کا دارومدار اللّٰہ کے نور پر ہے -

 اللّٰہ کو جاننے کے بعد ہر وقت اس کا دھیان رکھیں تاکہ فیڈنگ ہوتی رہے - اتنی چھوٹی عمر میں بھی

 عاقب ماں کی ہر بات کو سمجھتا تھا -

 اگر کوئی بات اچھی طرح سمجھ میں نہ آتی تب بھی ماں کی آواز کی لہریں اس کی سماعت کی

 گہرائی میں بیٹھ جاتیں - اسے یقین ہوجاتا کہ ایک نہ ایک دن وہ ان باتوں کو آج سے بہتر طور پر 

سمجھ لے گا - 

عاقب کا باپ قاسم ایک دن معمول سے پہلے گھر آ گیا - اس نے عاقب کی ماں زرینہ کو آواز دی -

 اس کے چہرے سے سخت پریشانی جھلک رہی تھی -

 اس نے پوچھا  ...  عاقب کہاں ہے  ؟ 

 زرینہ بولی ...  وہ تو اسکول گیا  ہے - کیا بات ہے تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو اور آج جلدی

 کیسے آگئے  ؟  زرینہ نے ایک ہی سانس میں اتنے سارے سوال کرڈالے -

 قاسم بولا  ... زرینہ تمہیں یاد ہے جب عاقب  پیدا ہونے والا تھا تو کسی نے پیشن گوئی کی تھی کہ

 عنقریب ہی ایک بچہ  پیدا ہونے والا ہے جو دنیا سے برائیوں کو ختم کردے گا اور نسل انسانی کو

 تباہی سے بچائے گا -

 زرینہ بولی  ... ہاں مجھے یاد ہے -

 قاسم بولا  ... آج علم نجوم اور علم جفر کے ماہرین کے بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچہ فلاں

 فلاں ساعت اور فلاں تاریخ کو  پیدا ہوچکا ہے اور تم جانتی ہو کہ یہ کون سی ساعت ہے -

 یہ وہی ساعت ہے جب ہمارا عاقب اس دنیا میں آیا تھا - 

ماں کے چہرے پر  خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی - وہ خوشی سے بولی قاسم یہ تو بڑے فخر کی بات ہے

 - میں نے تو اسی وقت دیکھ لیا تھا مگر خشیت الہی نے اس بات پر پردہ ڈال دیا  ... میں نے

 سوچا اگر میں نے اتنی بڑی بات منہ سے نکالی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے نفس کا تکبر اس میں

 شامل ہوجائے اور اللّٰہ تعالیٰ کے یہاں میری پکڑ ہوجائے  -

 اسی لئے میں نے تم سے بھی اس کا ذکر نہیں کیا - بلکہ سچ پوچھو تو قاسم جتنی مجھے اس بات سے

 خوشی ہوئی ہے کہ اللّٰہ پاک نے ہماری اولاد کو اس اہم ذمہ داری کے لئے منتخب کرلیا ہے اتنا

 ہی زیادہ اس بات سے خوف بھی آتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہستی اتنی عظیم اور قدرت والی ہے  -

 اس کی عظمت فکر اور منشائے الہی کے مطابق اگر خدانخواستہ کام نہ ہوسکا تو کیا ہوگا - 




قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...