Thursday, April 16, 2026

قندیل -4


قاسم نے خشیت الہی سے لرزتی ہوئی بیوی کو گلے سے لگا لیا اور امید و یقین بھری آواز میں

 بولے ...  زرینہ ! اللّٰہ بہت بڑا ہے  ،  اتنا بڑا کہ ہمارے ذہن ہماری فکر اس کی عظمتوں کو چھو

 بھی نہیں سکتے - اس کی عظمت ، اس کی بڑائی  ،  اس کی سبحانیت ہی اس کی رحمت ہے -

 وہ اپنے بندوں پر حد درجے مہربان ہے -

 اس کی عظمت ،  اس کی سبحانیت اور اس کی قدرت کا تصور ہی ہمارے دلوں میں اس کا

 رعب و دبدبہ  پیدا کرتا ہے اور یہی خشیت الہی ہے جو ہمارے دلوں کو اپنے رب کے آگے

 جھکا دیتی ہے -

تم تو جانتی ہو کہ جب اللّٰہ کسی کو کسی کام کے لئے چن لیتا ہے تو اس کام کے لئے اس کے اندر

 صلاحیت بھی   پیدا کردیتا ہے - سارا کام اسی کا ہے ہمارا کام اس کے ارادے کے ساتھ

 تعاون کرنا ہے - اس کے لئے توفیق بھی اللّٰہ ہی کی عطا کردہ ہے -

 اللّٰہ  ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے - آمین -

 دونوں صوفے پر بیٹھ گئے - زرینہ بولی ...  میں چائے بنا کر لاتی ہوں -

 وہ جلد ہی قاسم کے پاس آگئی  کہنے لگی  ... تم بتاؤ کیا تم یہی اطلاع دینے یہاں آج جلد آگئے تھے

 - قاسم بولا  ... اصل بات تو یہ ہے کہ زرینہ  ! وہاں دفتر میں ،  میں نے سب ہی لوگوں کو اس خبر 

پر  گفتگو کرتے سنا - کچھ لوگ تو کہتے تھے کہ اچھا ہے دنیا میں امن ہوجائے گا مگر کافی سارے

 لوگ ہنس ہنس کر یہ کہہ رہے تھے ،  ارے دنیا میں امن چین ہوگیا تو دنیا تو بور ہوجائے گی -

 ایسی بور جگہ میں ہم تو رہنا نہیں چاہیں گے - ہم تو اپنی دنیا کی حالت بدلنے نہیں دیں گے -  

یہی تو اس کا  charm  ہے -

زرینہ   لوگوں کی باتیں سن کر میری تو جان کرب سے تلملا گئی - مجھ سے وہاں بیٹھا ہی نہ گیا 

- نہ جانے لوگوں کے ذہن کیسے ہوگئے ہیں کہ انہیں اچھے برے کی تمیز ہی نہیں رہی ہے - اپنے

 جسموں پر صابن کی بجائے کیچڑ ملتے جارہے ہیں - انہیں یہ بھی پروا نہیں ہے کہ کیچڑ ان

 کے جسموں کو صاف کرنے کی بجائے گندگی میں اور زیادہ لتھیڑ  رہا ہے -

 جانے کیا زمانہ آتا جارہا ہے - 

سائنسی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر خبر ہوا کے دوش پر اڑتی ہوئی گلوب کے اس کونے سے

 اس کونے میں آن کی آن میں پہنچ جاتی - ان دنوں دنیا کی سب سے زیادہ گرما گرم خبر   ہادئ

 زماں کی   پیدائش کی تھی -

 علم نجوم اور علم جفر کے ماہرین سر جوڑ کر ریسرچ میں لگ گئے بلکہ وہ اس بات سے تعجب میں

 تھے کہ انہیں پہلے ہی کیوں نہ اس بات کا علم ہوگیا - جیسے جیسے وہ کوئی نئی چیز دریافت کرتے

 جاتے میڈیا کے ذریعے ساری دنیا میں پھیلاتے جاتے -

 یہ بات دریافت ہوچکی تھی کہ مخصوص ساعت میں     پیدا ہونے والا بچہ بہت سے خوبیوں کا

 مالک  ہوتا ہے - سائنسدان انسانی جین میں کام کرنے والی روشنیوں سے واقف ہوچکے تھے -

 ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ روشنیوں کی ان مخصوص مقداروں کو مرد کے اندر پلانٹ کردیں گے اور

 عورت کی بجائے بچے مرد کے بطن سے   پیدا ہوں گے -

 سات سالہ عاقب نے جب یہ بات سنی تو اماں سے بولا  ...  ماں یہ تو کوئی ایسی حیرت انگیز بات

 نہیں ہے - اللّٰہ تعالیٰ نے بھی تو آدم سے حوا کو نکالا تھا -

 ماں بولی  ...  بیٹا!  اللّٰہ کا علم انسان کے تمام علوم کا احاطہ کرتا ہے -

 اللّٰہ کا علم کمپیوٹر کی پروگرامنگ ہے - انسان کا علم  پروگرام شدہ علوم کو اسکرین پر دیکھنا ہے -

 اسکرین پر کوئی فلم اس وقت تک دیکھی ہی نہیں جاسکتی جب تک کہ پہلے سے پروگرامنگ نہ

 کی گئی ہو -

 بیٹا! اللّٰہ کا کمپیوٹر لوح محفوظ ہے - اس کی پروگرامنگ کی مکمل دستاویز قرآن ہے - 





No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...