شہاب ثاقب کی بارش کو دیکھ کر عاقب نے کہا ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے ...
اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں ...
بیٹے ! تم کو خبر بھی ہے کہ شیاطین کون ہیں ؟ قاسم نے بیٹے کا جواب دیا ...
امی نے بتایا تھا کہ شیاطین ناری مخلوق ہیں اور جنات سے تعلق رکھتے ہیں ... عاقب نے کہا ...
آج میں تمہیں شیاطین کی تخلیق کے کچھ ایسے اسرار بتاؤں گا جو میں نے اپنے بزرگوں سے بچپن
میں سنے تھے -
قاسم کے سامنے عاقب اور زرینہ دونوں ہمہ تن گوش ہوکر بیٹھ گئے -
قاسم نے کہنا شروع کیا ... ہر مخلوق کا خالق اللّٰہ ہے اور اللّٰہ ہر برائی سے پاک ہے -
اس کا جلال اس کے جبروت و دبدبے کی نشانی ہے - اس کی ہوئیت اس کی موجودگی کا نشان
ہے - اس کی موجودگی رحمت ہے -
زمین کا سلسلہ تکوینیات ... اللّٰہ تعالیٰ کے تخلیقی ارادے کو وجودی مراحل سے گزارنے کا نام ہے
- خالق اللّٰہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے - ہر شئے کی تخلیق اللّٰہ ذات واحد کے ارادے سے شروع
ہوتی ہے -
اللّٰہ کے ارادے پر صفات کی تجلیات و انوار اس تخلیقی خاکے میں رنگ بھرتے ہیں -
صفات کے انوار و رنگ جب ارادے کے خاکے میں منتقل ہوجاتے ... تو اللّٰہ کا ارادہ نفخ روح
بن کر اس کے اندر سما جاتا ہے ... اور اللّٰہ کے ارادے کی حرکت ... اس وجود کو حرکت میں
لے آتی ہے -
زمین کا تکوینی سلسلہ ... وجود کی اس حرکت کو ... کائنات کی حدود میں جاری و ساری رکھتا ہے -
سورہ رحمٰن میں اللّٰہ تعالیٰ نے جنات کی پیدائش کا تذکرہ بیان کیا ہے -
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں ... " جن کو آ گ کے شعلے سے پیدا کیا " - شعلہ آ گ اور ہوا دو عناصر سے
بنتا ہے - اس آیت میں ہوا اور آ گ کے ملنے کو لفظ " مارج "سے تعبیر کیا گیا ہے -
تخلیقی قانون کے مطابق ہر شے دو رخوں سے مل کر بنی ہے - اس طرح آدم کے متعلق فرماتے
ہیں کہ ..." طین " یعنی کیچڑ سے بنا ہے - کیچڑ مٹی اور پانی سے مل کر بنتی ہے -
زمین کے سلسلہ تکوینی میں ہر شے کا پہلے مادہ وجود میں آتا ہے اور پھر اس مادے سے صورتیں
بنتی ہیں - تخلیق کے اس قانون کے تحت جنات کی تخلیق سے پہلے شعلہ مار آ گ کا ایک عالم
وجود میں آیا اور پھر اللّٰہ تعالیٰ کے ارادے کے مطابق تکوینی پروگرام کے تحت اس عالم میں
جنات کی تخلیق ہوئی -
اس عالم نار میں ہوا اور شعلے کے ملنے سے جن وجود میں آیا - یہی وجہ ہے کہ جنات میں قہر
، کبر و غرور ہوتا ہے - آدم کی پیدائش کے بعد جنات کو اپنے قہر ، کبر و غرور کے ظاہر کرنے کا
ایک بہانہ مل گیا اور حسد کی وجہ سے اللّٰہ اور آدم دونوں کے دشمن قرار دیئے گئے -
لیکن شیاطین کے لشکر کو قدرت رکھتے ہوئے بھی انسان روک نہیں رہا ہے بلکہ انہیں پال پوس
کر قوی بناتا جارہا ہے -
قاسم کی بات مکمل ہوئی تو عاقب نے سوال کیا ... ابا ! انسان کس طرح شیاطین کو روک سکتا
ہے ؟
قاسم نے کہا ... بیٹے ! اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ... شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے - مگر تم آج
کے معاشرے میں انسان کے طرز عمل کو دیکھ ہی رہے ہو - تقریباً تمام آدمی شیطان کے طرز
عمل کو اپنائے ہوئے ہیں - اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے اپنے گھر میں اپنے دشمن کو پناہ
دے دی ہے -
دشمن کا کام اجاڑنا ہے بنانا نہیں ... دن بدن دشمن قوی ہوتا جارہا ہے اور انسان کمزور پڑتا جارہا
ہے - اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا ہے - خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمین کی
حفاظت کرے اور دشمن عناصر سے زمین کو پاک کرے -
عاقب نے پوچھا ... شیاطین نظر تو آتے نہیں ... انہیں کیسے مارا جاسکتا ہے ؟
قاسم نے جواب دیا ... بیٹے ! انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے - جسم عقل و شعور کا محل ہے ،
مٹی رنگوں کا مجموعہ ہے - اس میں روشنی کے لئے چھپنے کی صلاحیت ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو
کہ دیوار سے ٹکرا کر روشنی کی شعاع لوٹ جاتی ہے ... دیوار کے پار نہیں نکل جاتی ... یہی وجہ
ہے کہ شیطان نے انسان کو اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے -
آدمی کی عقل میں اپنی روشنیاں داخل کرتا رہتا ہے - یہاں تک کہ آدمی کی آدمیت آ گ کے
شعلوں کی لپیٹ میں آکر یا تو جل کر فنا ہوجاتی ہے یا پھر شعلوں کو جلتا دیکھ کر خوفزدہ ہوکر
چوہے کی مانند اپنے بل میں جا چھپتی ہے ...
بیٹا ! یاد رکھو ... بزدل اور ڈرپوک آدمی اللّٰہ کو پسند نہیں -
No comments:
Post a Comment