Saturday, April 18, 2026

قندیل - 6



 عاقب کا سارا بچپن زمانے کی چیرہ دستیوں کی داستانیں سنتا گزر گیا - ہر داستان زمین کے چہرے

 پر گڑنے والی پھانس بن کر اس کے ننھے  سے دل میں جا چبھتی اور اس کی کسک اس کی روح کی

 گہرائیوں میں پہنچ جاتی - اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دھرتی ماں کے کرب کی لہریں اس کے دل

 سے گزر رہی ہیں  -

 نو دس سال کی عمر میں وہ اس کرب و اضطراب کو محسوس تو کرتا تھا مگر اس کو روکنا فی الحال 

اس کے بس کی بات نہ تھی  - اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ آخر زمین پر بسنے والے

 لوگ زمین کی دگر گوں حالت سے کس طرح اپنی آنکھیں بند کرسکتے ہیں -

 ان دنوں اسکول میں بھی اس کا دل نہ لگتا - ہر بچہ اپنے آپ کو فلمی ہیرو ثابت کرنے کی کوشش

 میں لگا رہتا - بے حیائیاں  ،  بد زبانیاں اور کمزور اور چھوٹوں پر اپنا رعب آزمانا تو اس قدر عام 

ہوچکا تھا کہ اب استادوں کی توجہ بھی اس کو روکنے کی طرف سے ہٹ چکی تھی -

 اسے یوں محسوس ہوتا جیسے سارے اسکول میں وہ تنہا ہے  ،  اس کا کوئی دوست نہیں ہے -

 وہ اسکول سے آتے ہی اپنی ماں کے پاس بیٹھ جاتا اور اس وقت تک باتیں کرتا رہتا جب تک کہ

 ماحول کا پریشر اس کے ذہن سے نہ ہٹ جاتا -

 ماں ہی اس کی اکلوتی دوست تھی جو اس کے سنگ مرمر کے جسم پر پڑنے والی دھول کو روز

 کے روز صاف کردیا کرتی تھی - ان دنوں وہ اکثر خواب اور تصور میں دیکھتا کہ وہ ایک سفید

 صاف شفاف لباس پہنے ہوئے ہے - اتنے میں بہت سے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پچکاریاں لئے

 اس کی طرف نشانہ بنائے ہوئے ہیں -

 ان پچکاریوں میں گندے گندے رنگ اور تیزاب بھرا ہوا ہے - جوں ہی وہ پچکاریاں عاقب کی 

طرف مارتے ہیں  ... اس کی ماں اسے نہایت ہی تیزی سے ان کی زد سے الگ کھینچ لیتی ہے  -

 وہ سمجھتا تھا کہ قدرت اس کی حفاظت کر رہی ہے - 

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا زمین اپنے بسنے والوں کے لئے تنگ ہوتی جارہی تھی -

 اسلحہ کا استعمال عام تھا ... جس کے خوف سے ہر کوئی دوسرے کی زیادتی کو برداشت کرنے پر 

مجبور تھا - انہی دنوں دجال کی پیشن گوئیاں بھی سننے میں آ  ئیں - جلد ہی یہ موضوع بھی عام لوگوں

 کی گفتگو کا مرکز بن گیا -

 عاقب ان دنوں اسکول کے آخری سال میں تھا - ایک دن اسکول میں لڑکوں نے دجال کا ذکر

 چھیڑ دیا  ... بات سے بات چل نکلی - کوئی کہتا وہ زبردست جادوگر ہوگا  ،  سب لوگوں کو اپنے

 سحر کے زور پر قابو میں رکھے گا  -

 ایک کہنے لگا  ... سنا ہے کہ عورتیں اس کی پوجا کی حد تک گرویدہ ہوں گی -

 یہ سن کر دوسرا بڑے رازدارانہ انداز میں کہنے لگا  ... جب ہی تو وہ مردوں کو چن چن کر مارے گا -

 ایک کہنے لگا  ... سنا ہے وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا -

 ایک لڑکے نے کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور سے کہا  ... اس

 کی طرح  ،  اس لڑکے کی ایک آنکھ کچھ سوجی ہوئی تھی - شاید کچھ چوٹ لگ گئی تھی - سوجن کی

 وجہ سے آنکھ بند سی لگتی تھی -

پھر کیا تھا سب نے اسے ہدف بنالیا - ارے کہیں یہی تو کانا دجال نہیں ہے - سارے لڑکوں 

نے اس کا ناک میں دم کردیا - عاقب نے پاس بیٹھے ہوؤں کو روکنے کی کوشش بھی کی مگر مذاق

 میں بات فتنہ بن گئی - سارا کمرہ میدان کارزار بن گیا -

 ایک طوفان بدتمیزی تھا  ... ہوا میں کھانے کی پلیٹیں چل رہی تھیں  ،  جس کو لگتی وہ بھی آگے

 کسی کو کھینچ مارتا - قبل اس کے کہ معاملہ زیادہ سنگین ہوجائے عاقب کمرے سے نکل بھاگا -

 باہر نکلتے ہی اسے اندر گولی چلنے کی آواز سنائی دی -


 

No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...