عاقب کا سارا بچپن زمانے کی چیرہ دستیوں کی داستانیں سنتا گزر گیا - ہر داستان زمین کے چہرے
پر گڑنے والی پھانس بن کر اس کے ننھے سے دل میں جا چبھتی اور اس کی کسک اس کی روح کی
گہرائیوں میں پہنچ جاتی - اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دھرتی ماں کے کرب کی لہریں اس کے دل
سے گزر رہی ہیں -
نو دس سال کی عمر میں وہ اس کرب و اضطراب کو محسوس تو کرتا تھا مگر اس کو روکنا فی الحال
اس کے بس کی بات نہ تھی - اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ آخر زمین پر بسنے والے
لوگ زمین کی دگر گوں حالت سے کس طرح اپنی آنکھیں بند کرسکتے ہیں -
ان دنوں اسکول میں بھی اس کا دل نہ لگتا - ہر بچہ اپنے آپ کو فلمی ہیرو ثابت کرنے کی کوشش
میں لگا رہتا - بے حیائیاں ، بد زبانیاں اور کمزور اور چھوٹوں پر اپنا رعب آزمانا تو اس قدر عام
ہوچکا تھا کہ اب استادوں کی توجہ بھی اس کو روکنے کی طرف سے ہٹ چکی تھی -
اسے یوں محسوس ہوتا جیسے سارے اسکول میں وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی دوست نہیں ہے -
وہ اسکول سے آتے ہی اپنی ماں کے پاس بیٹھ جاتا اور اس وقت تک باتیں کرتا رہتا جب تک کہ
ماحول کا پریشر اس کے ذہن سے نہ ہٹ جاتا -
ماں ہی اس کی اکلوتی دوست تھی جو اس کے سنگ مرمر کے جسم پر پڑنے والی دھول کو روز
کے روز صاف کردیا کرتی تھی - ان دنوں وہ اکثر خواب اور تصور میں دیکھتا کہ وہ ایک سفید
صاف شفاف لباس پہنے ہوئے ہے - اتنے میں بہت سے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پچکاریاں لئے
اس کی طرف نشانہ بنائے ہوئے ہیں -
ان پچکاریوں میں گندے گندے رنگ اور تیزاب بھرا ہوا ہے - جوں ہی وہ پچکاریاں عاقب کی
طرف مارتے ہیں ... اس کی ماں اسے نہایت ہی تیزی سے ان کی زد سے الگ کھینچ لیتی ہے -
وہ سمجھتا تھا کہ قدرت اس کی حفاظت کر رہی ہے -
جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا زمین اپنے بسنے والوں کے لئے تنگ ہوتی جارہی تھی -
اسلحہ کا استعمال عام تھا ... جس کے خوف سے ہر کوئی دوسرے کی زیادتی کو برداشت کرنے پر
مجبور تھا - انہی دنوں دجال کی پیشن گوئیاں بھی سننے میں آ ئیں - جلد ہی یہ موضوع بھی عام لوگوں
کی گفتگو کا مرکز بن گیا -
عاقب ان دنوں اسکول کے آخری سال میں تھا - ایک دن اسکول میں لڑکوں نے دجال کا ذکر
چھیڑ دیا ... بات سے بات چل نکلی - کوئی کہتا وہ زبردست جادوگر ہوگا ، سب لوگوں کو اپنے
سحر کے زور پر قابو میں رکھے گا -
ایک کہنے لگا ... سنا ہے کہ عورتیں اس کی پوجا کی حد تک گرویدہ ہوں گی -
یہ سن کر دوسرا بڑے رازدارانہ انداز میں کہنے لگا ... جب ہی تو وہ مردوں کو چن چن کر مارے گا -
ایک کہنے لگا ... سنا ہے وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا -
ایک لڑکے نے کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور سے کہا ... اس
کی طرح ، اس لڑکے کی ایک آنکھ کچھ سوجی ہوئی تھی - شاید کچھ چوٹ لگ گئی تھی - سوجن کی
وجہ سے آنکھ بند سی لگتی تھی -
پھر کیا تھا سب نے اسے ہدف بنالیا - ارے کہیں یہی تو کانا دجال نہیں ہے - سارے لڑکوں
نے اس کا ناک میں دم کردیا - عاقب نے پاس بیٹھے ہوؤں کو روکنے کی کوشش بھی کی مگر مذاق
میں بات فتنہ بن گئی - سارا کمرہ میدان کارزار بن گیا -
ایک طوفان بدتمیزی تھا ... ہوا میں کھانے کی پلیٹیں چل رہی تھیں ، جس کو لگتی وہ بھی آگے
کسی کو کھینچ مارتا - قبل اس کے کہ معاملہ زیادہ سنگین ہوجائے عاقب کمرے سے نکل بھاگا -
باہر نکلتے ہی اسے اندر گولی چلنے کی آواز سنائی دی -
No comments:
Post a Comment