Sunday, April 19, 2026

قندیل -7

 

گھر آکے اس نے ماں کو سارا فتنہ سنایا  ... 

 کہنے لگا  ... ماں! ایسا لگتا ہے جیسے لوگ کانا دجال کے انتظار میں ہیں  ... 

 ماں ! کیا کہیں کوئی ایسا واضح اشارہ نہیں ہے جس سے دجال کا صحیح نشان معلوم ہوجائے کہ

  ... وہ کب اور کہاں   پیدا ہوگا - خواہ مخواہ لوگ شک و شبہے میں ایک دوسرے کے دشمن

 بنتے جارہے ہیں  ...

  ماں بولی  ... بیٹے ! کسی کی بات جو فتنے کی صورت اختیار کرے اسے ہی دجال کہا گیا ہے -

 گویا دجال فتنہ باز کردار کا نام ہے جو ہر زمانے میں ہوتے ہیں  ... 

 عاقب بولا  ... ماں ! آج اسکول میں ایک لڑکے نے دجال کی بات شروع کی جو آخر میں فتنے

 کی صورت بن گئی - اس کا مطلب اس لڑکے کا کردار دجال کا ہے  ... 

 ماں بولی  ... اگر اس  فتنے میں اس لڑکے کا ہاتھ ہے  تو وہ    یقیناً دجال کردار ہے - کبھی بات

 شروع کرنے والا ایک بات شروع کرتا ہے ... اس بات پر بہت سے لوگ اپنی اپنی رائے کا

 اظہار کرتے ہیں - کوئی موافقت میں بولتا ہے  ،  کوئی مخالفت میں اور پھر ایک دوسرے

 کی مخالفت لڑائی جھگڑے کا  باعث بن جاتی ہے - 

اس لڑائی جھگڑے میں جو بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور اس بات کو فتنہ بنانے میں پوری

 پوری مدد کرتا ہے  ... ایسے تمام کرداروں کو دجال کا نام  دیا گیا ہے -

 بیٹے! دجال وہ چنگاری ہے جو پورے جنگل میں آگ لگا دیتی ہے - جنگل کی آگ کا الزام

 چنگاری پر ہی تو آئے گا  ...

 عاقب بولا  ... مگر ماں ! لوگوں میں تو یہ بات مشہور ہے کہ دجال کانا ہوگا - اس کی ایک آنکھ

 خراب ہوگی  ... 

 ماں بولی ... بیٹے ! اس قول میں بھی حکمت چھپی ہوئی ہے -  تم ہی بتاؤ دو آنکھوں سے دیکھنے

 والا زیادہ اچھا دیکھ سکتا ہے یا ایک آنکھ سے دیکھنے والا  ...

 عاقب بولا  ... دو آنکھوں سے دیکھنے والا  ،  ایک آنکھ والے کی نسبت زیادہ صحیح دیکھ سکتا ہے  ... 

ماں بولی  ... بیٹے ! کوئی بات فتنہ اسی وقت بنتی ہے جب لوگ اس کی گہرائی میں کام کرنے والی

 حکمت سے بے خبر ہوتے ہیں -

 بات کی حکمت کو پہچاننے کے  لئے بھرپور توجہ اور گہری نگاہ کی ضرورت ہے  - اللّٰہ پاک نے

 انسان کو دو آنکھیں دی ہیں - ایک آنکھ کا خراب ہونا معذوری اور جسمانی نقص ہے -

 وہ شخص جو عقل کا کمتر ہو اور روحانی فکر سے آشنا نہ ہو  ... ایسے شخص کو معذور اور کانا ہی

 کہا جاسکتا ہے -

 ایسے معذور اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کو کیسے جان سکتے ہیں - دنیاوی نفس کمزور ہے  ،  تمام معذوری

 اسی نفس کا خاصہ ہے - دنیاوی تمام حواس ناقص اور کمزور ہیں - دجال وہ کردار ہے جو عقل

 سلیم سے معذور ہو اور ناقص اور کمتر عقل کا مالک ہو   ....

 عاقب بولا ... مگر ماں ! جب دجال فتنہ باز کردار کا نام ہے اور ایسے کردار ہر زمانے میں دنیا میں

 موجود رہتے ہیں تو پھر دجال کو قیامت کی نشانی کیوں کہا جاتا ہے  ... 

 ماں بولی  ... بیٹے ! جب فتنہ اجتماعی صورت اختیار کرلے اور دنیا والوں کی اکثریت فتنے باز کے

  ساتھ ہوجائے  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عقل سلیم کا فقدان ہے اور سب کی

 طرز فکر دجال ہی کی طرز فکر ہے  ... 

 بیٹا ! اب تم ہی خود ذرا غور کرو  ... ایک تخریبی ذہن اور فتنہ باز شخص ایک گھر تباہ کردیتا ہے

 اور کبھی کبھی تو سارے خاندان میں پھوٹ اور فساد ڈلوا دیتا ہے - تو جب دنیا میں بسنے والوں

 کی اکثریت فسادی ہوگی تب دنیا کا کیا حال ہوگا -

 قیامت وہ ساعت ہے جو سینکڑوں اور ہزاروں سال کی تعمیر کو فنا کے ایک لمحے میں سمیٹ لیتی

 ہے -

 بیٹے ! یاد رکھو کہ انسان زمین پر اللّٰہ کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے - اللّٰہ کی ہر صفت تخلیقی اور تعمیری

 ہے - دنیا اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق ہے - اللّٰہ کا خلیفہ انسان جب تک اللّٰہ تعالیٰ کے تخلیقی ذہن سے

 کام لیتا رہتا ہے  ... دنیا اپنے بسنے والوں کے لئے امن و چین کا گہوارہ بن جاتی ہے اور ہر شئے

 سے اللّٰہ تعالیٰ کی صفات کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں -

 مگر جب انسان اپنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے دشمن شیطان سے دوستی کرلیتا ہے تو اس کا ہر کام

 شیطانی طرز فکر پر ہوتا ہے - شیطانی طرز فکر تباہی  ،  بربادی  اور غارتگری ہے -

 جب سارے ہی انسان تخریبی ذہن استعمال کریں گے تو ساری دنیا تباہی کے گڑھے میں

 جا پڑے گی  ... 

 عاقب بڑے وثوق و عزم کے ساتھ بولا  ... ماں ! میں دنیا کو تباہی کے گڑھے میں نہیں جانے

 دوں گا انشاء اللّٰہ تعالیٰ -

 ماں کے چہرے سے طمانیت جھلکنے لگی - اس کے لبوں پر بیٹے کے لئے دعا ئیہ کلمات جاری

 ہوگئے -  





No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...