Monday, April 20, 2026

قندیل -8

 


زمانہ بد سے بدتر  ہوتا چلا گیا - زمین پر بسنے والوں کی زندگی مشکل سے مشکل ترین بنتی چلی گئی -

 ہر قسم کے علوم اپنے زوروں پر تھے - علم نجوم کا تو یہ حال تھا کہ بچے اسکول جانے سے پہلے

 اور بڑے دفتر جانے سے پہلے ٹی وی  پر اپنا ہورو اسکوپ دیکھ کر جاتے کہ آج کا دن ان کے

 لئے کیسا ہوگا -

 آئے دن لوگوں میں یہ ذکر رہتا کہ فلاں کو پتہ چلا کہ اس کے ساتھ ہوئی حادثہ ہونے والا ہے تو وہ

 گھر بیٹھ گیا اور حادثہ ٹل گیا - فلاں مہینے میں   پیدا ہونے والے ایسی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں

 اس لئے فلاں مہینے میں   پیدا ہونے والوں کے لئے ان سے دوستی کرنا درست نہیں ہے -

 اب گروپ بندیاں ہوگئیں اور پھر دشمنیاں ہونے لگیں  ... لیکن ستاروں پر اس قدر یقین تھا کہ

 ان اطلاعات کو جھٹلانے کا خیال بھی دل میں لانا پسند نہ کرتے - ہر ادارے میں علم نجوم کے

 عقیدت مند موجود تھے -

 کالج میں عاقب کے ساتھ بھی گروپ بندی کا معاملہ ہونے لگا - وہ ہزار سمجھاتا   کہ  یار ہم سب

 ایک کلاس میں ہیں  ،  ایسی باتیں نہیں ہونی چاہییں - انسان کا ارادہ چاند ستاروں کے ارادے

 سے افضل ہے - انسان اپنے ارادے سے چاند ستاروں کے مضر اثرات کو روکنے پر قدرت

 رکھتا ہے - 

کوئی قوم جب اپنے اندر کی آواز سننے سے اپنے کان بند کرلیتی ہے تو باہر کی آواز بھی اس کے

 کانوں سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہے اور الفاظ و  معنی کا دفتر خالی رہتا ہے - اس وقت زمین اسی

 صورت حال کا سامنا کر رہی تھی -

 حکیمانہ اقوال کی لہریں بند ذہنوں سے سر پھوڑ کر واپس لوٹ جاتیں - ایسے میں ماں باپ پر اولاد

 کی صحیح تربیت کی ذمہ داری اور بھی بھاری ہوجاتی ہے مگر اولاد کی محبت اور ذمہ داری کا

 احساس ہر دشواری کو آسان بنا دیتا ہے -

 عاقب کے ماں باپ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ اس نفسا نفسی و لہو لعب کے دور میں

 عاقب کو مضبوطیٔ کردار اور بالیدگیٔ روح کا سامان کہیں سے بھی میسر نہیں آسکتا  بجز اس کے

 ماں باپ کے -

 پس وہ اس بات کا پورا پورا خیال رکھتے کہ اللّٰہ کے حکم سے جس پودے کو وہ پروان چڑھا رہے

 ہیں  ... اس کی نشونما میں اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی شامل رہے مگر اب بیٹا جوان ہوتا جارہا تھا اور

 ان کے قویٰ کمزور ہوتے جارہے تھے -

 فکر کا بوجھ ناتواں کندھوں پر  بھاری ہوتا جاتا تھا - جتنی دیر عاقب گھر سے باہر رہتا زرینہ کا دل

 سایہ بن کر اس کے تعاقب میں رہتا - اس کے دل سے مسلسل یہی دعا نکلتی  ... یا اللّٰہ ! میرا

 بچہ تیری امانت ہے اس کی حفاظت تو ہی کرسکتا ہے - 

موسم خزاں کی ایک  ویران سی  رات تھی  ... ہوا  میں ہلکی سی خنکی تھی - تینوں کھانا کھا کر صحن

 میں بیٹھ گئے - قاسم کی نظر آسمان پر پڑی  ... ارے یہ کیا  ... اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ

 نے زرینہ اور عاقب کو بھی اپنی طرف متوجہ کرلیا - تینوں کی نظریں آسمان پر ٹک گئیں -

 ہر طرف شہاب ثاقب مصروف عمل تھے - قاسم پریشانی کے عالم میں کہنے لگا  ... زرینہ ! آج

 پہلی بار اتنے زیادہ شہاب ثاقب دکھائی دیئے - ایسا لگ رہا ہے کہ آسمان کی سرحد پر جنگ ہورہی

 ہے - 


No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...