Tuesday, April 14, 2026

قندیل - 3


ایک دن اسکول سے آنے کے بعد عاقب نے ماں سے پوچھا  ... ماں آج نوید کہہ رہا تھا کہ اس 

کے والد ہر روز یہ دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ میاں کسی مہدی کو بھیج دے -

 ماں مہدی کون ہے  ؟

  ماں بولی  ... بیٹے مہدی کسی کا ذاتی نام نہیں ہے بلکہ روحانی رہنما کو مہدی کہا گیا ہے - مہدی کا

 مطلب ہے ہدایت دینے والا جو لوگوں کو نیک ہدایت دے جیسے پیغمبروں نے اللّٰہ کا   پیغام لوگوں

 تک پہنچایا -    پیغمبروں کا مشن مخلوق میں خالق کا تعارف کرانا ہے تاکہ مخلوق خالق کو پہچان کر

 اس کے احکامات کی تعمیل میں دل و جان سے مصروف ہوجائے -

بیٹے مہدی وہ کردار ہے جو پیغمبروں کے مشن میں پیغمبرانہ طرز فکر پر کام کرتا ہے -

 عاقب بولا  ... ماں پیغمبرانہ طرز فکر کیا ہے  ؟ 

  ماں بولی  ... اپنے ذاتی ارادے کے بجائے ہر کام کو اللّہ کا حکم سمجھ کر کرنا پیغمبرانہ طرز فکر ہے -

 مخلوق کا ذاتی ارادہ اللّٰہ کے ارادے سے فیڈ ہورہا ہے - اللّٰہ بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اس

 بات سے واقف ہوجائیں کہ ان کی زندگی کا دارومدار اللّٰہ کے نور پر ہے -

 اللّٰہ کو جاننے کے بعد ہر وقت اس کا دھیان رکھیں تاکہ فیڈنگ ہوتی رہے - اتنی چھوٹی عمر میں بھی

 عاقب ماں کی ہر بات کو سمجھتا تھا -

 اگر کوئی بات اچھی طرح سمجھ میں نہ آتی تب بھی ماں کی آواز کی لہریں اس کی سماعت کی

 گہرائی میں بیٹھ جاتیں - اسے یقین ہوجاتا کہ ایک نہ ایک دن وہ ان باتوں کو آج سے بہتر طور پر 

سمجھ لے گا - 

عاقب کا باپ قاسم ایک دن معمول سے پہلے گھر آ گیا - اس نے عاقب کی ماں زرینہ کو آواز دی -

 اس کے چہرے سے سخت پریشانی جھلک رہی تھی -

 اس نے پوچھا  ...  عاقب کہاں ہے  ؟ 

 زرینہ بولی ...  وہ تو اسکول گیا  ہے - کیا بات ہے تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو اور آج جلدی

 کیسے آگئے  ؟  زرینہ نے ایک ہی سانس میں اتنے سارے سوال کرڈالے -

 قاسم بولا  ... زرینہ تمہیں یاد ہے جب عاقب  پیدا ہونے والا تھا تو کسی نے پیشن گوئی کی تھی کہ

 عنقریب ہی ایک بچہ  پیدا ہونے والا ہے جو دنیا سے برائیوں کو ختم کردے گا اور نسل انسانی کو

 تباہی سے بچائے گا -

 زرینہ بولی  ... ہاں مجھے یاد ہے -

 قاسم بولا  ... آج علم نجوم اور علم جفر کے ماہرین کے بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچہ فلاں

 فلاں ساعت اور فلاں تاریخ کو  پیدا ہوچکا ہے اور تم جانتی ہو کہ یہ کون سی ساعت ہے -

 یہ وہی ساعت ہے جب ہمارا عاقب اس دنیا میں آیا تھا - 

ماں کے چہرے پر  خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی - وہ خوشی سے بولی قاسم یہ تو بڑے فخر کی بات ہے

 - میں نے تو اسی وقت دیکھ لیا تھا مگر خشیت الہی نے اس بات پر پردہ ڈال دیا  ... میں نے

 سوچا اگر میں نے اتنی بڑی بات منہ سے نکالی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے نفس کا تکبر اس میں

 شامل ہوجائے اور اللّٰہ تعالیٰ کے یہاں میری پکڑ ہوجائے  -

 اسی لئے میں نے تم سے بھی اس کا ذکر نہیں کیا - بلکہ سچ پوچھو تو قاسم جتنی مجھے اس بات سے

 خوشی ہوئی ہے کہ اللّٰہ پاک نے ہماری اولاد کو اس اہم ذمہ داری کے لئے منتخب کرلیا ہے اتنا

 ہی زیادہ اس بات سے خوف بھی آتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ہستی اتنی عظیم اور قدرت والی ہے  -

 اس کی عظمت فکر اور منشائے الہی کے مطابق اگر خدانخواستہ کام نہ ہوسکا تو کیا ہوگا - 




No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...