Monday, April 13, 2026

قندیل - 2


 آج کل کا زمانہ تباہی و بربادی کا زمانہ ہے بیٹے  - ماں نے گہری سانس لی ،  اس کے چہرے سے

 دکھ جھلک رہا تھا پھر وہ سنبھل کر بیٹھ گئی اور عاقب کی آنکھوں کی گہرائی میں دیکھتے ہوئے 

بولی  ...  آج کا بچہ اپنے باپ کے بچپن سے سو سال آگے ہے  ،  تم چھ سال کے قالب میں سو

 برس کا دماغ رکھتے ہو  -

 دیکھو بیٹے آج میں تمہیں راز کی ایک بات بتاتی ہوں  ،  اسے اپنے دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ

 کرلینا - جب تم پیدا ہوئے اس وقت  ایک نور میں نے دیکھا تھا  ... اس نور سے آواز آئی  ... یہ

 بچہ ہماری امانت ہے ،  ہم اس سے کام لینا چاہتے ہیں  ، اسے سنبھال کر رکھنا  -

 میں جان گئی کہ یہ ندائے غیبی ہے  ، میں نے اسی وقت اقرار کیا  ... انشاء اللّٰہ ایسا ہی ھوگا -  

بیٹے یہ تو آنے والا زمانہ ہی بتائے گا کہ قدرت تم سے کیا کام لینا چاہتی ہے مگر یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا

 کہ اللّٰہ جب کسی کام کر ارادہ کرتا ہے تو پھر اس کا کام پورا ہوکر ہی رہتا ہے -اس کے راستے

 میں دنیا کی کوئی شے رکاوٹ نہیں بنتی -

 اللّٰہ کی مہربانی ہے  کہ اس نے تمہیں اپنے کام کے لئے منتخب کرلیا ہے - تمہارے راستے میں

 بھی انشاء اللّٰہ کوئی شے رکاوٹ نہیں بنے گی - میں تمہیں یہ راز اس لئے بتا رہی ہوں تاکہ تم اپنے

 آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی ادائیگی کے لئے تیار کرلو -

 عاقب کو یوں لگا جیسے وہ بہت بڑے خالی کمرے میں بیٹھا ہے - ماں کی آواز کمرے میں گونج رہی

 ہے اور گونجتی آواز کی لہریں اس کے اندر جذب ہوتی جارہی ہیں - اس کی تمام تر توجہ اس آواز

 پر تھی - 

ماں ذرا رکی تو وہ بولا  ... ماں میں تمہاری اس بات کو سمجھ گیا  ،  تم فکر نہ کرو میں تین دن سے

 روزانہ یہ خواب دیکھ رہا ہوں کہ دنیا میں جنگیں ہورہی ہیں - ایک ملک دوسرے  پر راکٹ اور بم

 پھینک رہے ہیں - پھر میں درمیان میں آ جاتا ہوں - 

میں پورا جوان ہوں میرا قد کافی لمبا ہے  ...

 میں درمیان میں کھڑا ہوں اور تمام راکٹ اور بم میرے سینے سے ٹکرا کر واپس پلٹتے جارہے

 ہیں -

 ماں بولی  ... بیٹے  ! اللّٰہ نے تمہارے ارادے کو راکٹ سے بھی زیادہ مظبوط بنایا ہے  - تم جو

 ارادہ کرو گے انشاء اللّٰہ اس میں ضرور کامیابی ہوگی مگر یاد رکھو  ! زمانہ بہت خراب ہے  ... ہر

 قدم پر تمہارے راستے میں دیواریں کھڑی کی جائیں گی  - تم اپنا کام نہ روکنا اور ہر کسی پر بھروسہ نہ

 کرنا جب تک کہ اسے اچھی طرح پرکھ نہ لو - 

عاقب ماں کے پہلو سے لپٹ گیا اور آہستہ سے بولا  ... ماں مجھے یقین ہے اللّٰہ ہر قدم پر میری مدد 

فرمائے گا - ماں نے اسے    پیار سے بھینچا اور بالوں کو چومنے لگی - 

دو ہزار صدی کے بعد کا یہ دور علمی شعور کا دور تھا - نسل انسانی ہر طرح کے علوم میں آگے سے

 آگے ہی بڑھتی جارہی تھی - علم نجوم  ،  علم جفر  ،  علم سحر  ،  سائنسی علوم غرضیکہ سائنسی

 ٹیکنالوجی نے بچوں کو جوان ہونے سے پہلے ہی بوڑھا بنا دیا تھا -

 دنیا بھر کی معلومات ان کے ننھے سے دماغ میں ڈالتے جاتے  ... یہاں تک کہ ان کے شعور کا نقطہ

 پھیل کر ان کے  جسموں کو پیچھے چھوڑ دیتا - چھوٹے چھوٹے ڈیل ڈول اور بڑی بڑی باتیں  -

 شاید اسی دور کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے قریب کا  زمانہ ایسا سخت ھوگا جو بچوں

 کو بوڑھا کردے گا -

 یہ سب باتیں سوچ کر اور دنیا کی حالت دیکھ کر عاقب کے والدین پریشان ہوتے رہتے - آئے

 دن اخباروں اور ٹی وی پر دکھایا جاتا کہ لوگ عدم تحفظ کا شکار ہونے کی وجہ سے بے سکون ہیں -

 اسی بے سکونی نے کچھ لوگوں کے اندر ایک روحانی رہنما کا تقاضہ   پیدا کردیا -





No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...