Sunday, April 12, 2026

قندیل - 1

 


 بڑی سی آبنوسی مسہری پر سفید چادر اوڑھے وہ اپنی زندگی کی سانسیں گن رہا تھا  - اتھلی اتھلی

 سانسوں کے ساتھ اس نے بند آنکھوں کو کھولا  - اپنے ارد گرد کھڑے ہوئے لوگوں پر مسکراتی

 نگاہ ڈالی اور پھر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں  -

 آنکھیں بند کرتے ہی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے گزری ہوئی زندگی فلم کی ایک ریل ہے اور یہ

 ریل نہایت تیزی سے روائنڈ ہو رہی ہے  - اس کی آنکھوں کے سامنے ریوائنڈ ہونے والی فلم 

کے فلیش آتے جارہے ہیں  -

 دوسرے ہی لمحے ایک فلیش لائٹ اس کے سامنے ٹھہر گئی  - اس کی نظر اس لائٹ میں دیکھنے 

لگی  - اس نے اپنی   پیدائش کے وقت کا مشاہدہ کیا  - تین نرسیں ولادت کے اس مرحلے میں ماں

 کے ساتھ ہیں مگر اس کے ساتھ ہی داہنی جانب کمرے کے کونے میں ایک شخص سفید لمبے

 کوٹ میں ملبوس کھڑا ہے جو ماں کے   بیڈ کے سامنے کچھ فاصلے پر ہے  - 

اس کے نورانی چہرے اور حلیئے سے اعزاز جھلک رہا ہے  - اس کی   پیدائش کے بعد اس شخص

 نے اپنا ہاتھ بلند کیا  - اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سے آئینہ تھا  - اس آئینے کا رخ اس نے ماں

 کے چہرے پر کردیا  - آئینے سے ایک  روشنی بجلی کی طرح چمک کر ماں کے چہرے پر پڑی -

 ماں کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں  - یہ روشنی فلیش کی سی تیزی سے ماں کی آنکھوں میں سما

 گئی  - ماں کے لب کھلے اور گہری سانس کے ساتھ اس کی دھیمی سی آواز سنائی دی  ...

 انشاء اللّٰہ ایسا ہی ہوگا  - 

دنیا میں آتے ہی اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا کے جھونکے کی لپیٹ میں آ  گیا ہے  - نرس

 نے اسے سفید چادر میں لپیٹ کر ماں کے سینے پر رکھ دیا  - ماں کی آنکھوں سے بہتے پانی کا مطلب

 وہ سمجھ نہ سکا  - ماں نے مسکرا کے   پیار سے اسے سہلایا  - میری جان  ، میرا بیٹا  -

ماں اسے عاقب کے نام سے بلاتی  - وہ اپنی ماں کی چھاتی سے لگا ہوتا مگر ماں باپ کی آواز اس

 کی سماعت سے ٹکراتی رہتی  - وہ اکثر باتیں کرتے زمانہ بڑا خراب ہے  ،  قیامت آنے والی ہے 

 ،  آگے آگے نہ جانے کیا ہونے والا ہے  ،  اللّٰہ ہمارے بچے کی حفاظت کرے  -

وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا  - وہ دونوں اس کی اس طرح حفاظت کرتے جیسے ان کا

 سارا خزانہ وہی ہے جسے کھو کر وہ بالکل کنگال ہوجائیں گے  - ایک دن جب اس

 کی عمر تقریباً چھ سال کی تھی  وہ اپنی ماں کے ساتھ ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا  - اس وقت جنگ کی

 خبریں دکھائی جارہی تھیں - پڑوسی ملک میں جنگ ہورہی تھی  - دشمن بموں اور راکٹوں سے

 مخالف کی تباہی کے درپے تھا  - بچے بڑے سب اذیتوں اور تکلیفوں سے گزر رہے تھے  - 

عاقب بولا ...  ماں یہ کیوں لوگوں کو مار رہے ہیں  اور ان کے گھر تباہ کر رہے ہیں  ؟ 

 ماں ٹھنڈی سانس بھر کر بولی بیٹے  ! انسان جب انسانیت کی بجائے درندگی کا مظاہرہ  کرتا ہے تو

 وہ تعمیر کی بجائے تخریب میں لگ جاتا ہے  -

 وہ بولا  .. ماں مگر تم تو کہتی ہو کہ اللّٰہ سب سے بڑا ہے  - سب سے زیادہ قوت والا ہے   پھر اللّٰہ

 اس تباہی کو کیوں نہیں روکتا  ؟

  ماں بولی  ...   بیٹے یہ ٹی وی  جو تم دیکھ رہے ہو کس نے بنایا ہے  ؟ 

 وہ بولا ...   انجینئر نے  

 ماں بولی اسے استعمال کون کر رہا ہے  ؟

  عاقب نے کہا  ...    میں اور تم اور پاپا  

ماں بولی  ... انجینئر نے ٹی وی بنا کر ہمیں دے دیا  - اب ہم اپنی مرضی سے اسے استعمال کرتے

 ہیں  - انجینئر نے ہمیں اس کے استعمال کا طریقه بھی بتا دیا ہے  کہ فلاں بٹن دباؤ تو پروگرام

 اسکرین پر آئے گا   ،  فلاں بٹن دباؤ گے تو آواز کم ہوگی وغیرہ وغیرہ  -

مگر انجینئر خود آکر بٹن نہیں دباتا  ، یہ بٹن ہم کو دبانے پڑتے ہیں  - اللّٰہ نے بھی دنیا بنا کر انسان کو 

اس میں بسا دیا اور انسان کو اس میں رہنے کے اصول سمجھا دیئے  -  اب اس میں بسنے والوں پر

 ہے کہ وہ اسے آباد رکھیں یا تباہ کردیں  -

وہ بولا  ...  مگر ماں تم نے تو کہا تھا کہ قیا مت  آنے والی ہے  اور دنیا تباہ ہوجائے گی 

ماں بولی  ...   بیٹے اللّٰہ تعالیٰ انسان کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے  - وہ جانتا ہے کہ ایک دور

 ایسا بھی آئے گا جب دنیا کے لوگوں کی طرز فکر تعمیری کی بجائے تخریبی ہوجائے گی اور وہ اس 

پلے نیٹ کو تباہ کرنے پر تل جائیں گے  - اللّٰہ نے اسی تباہی کو قیامت کہا ہے  - 





No comments:

Post a Comment

قندیل -9

  شہاب ثاقب کی بارش کو  دیکھ کر عاقب نے کہا  ... ابا ! اس میں فکرمندی کی کیا بات ہے  ...  اچھا تو ہے کہ زیادہ سے زیادہ شیاطین مارے جارہے ہیں...